ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ضلع شمالی کینرا میں پانچ مہینوں میں 14عصمت دری کے معاملات!

ضلع شمالی کینرا میں پانچ مہینوں میں 14عصمت دری کے معاملات!

Tue, 03 Jul 2018 13:45:14    S.O. News Service

کاروار3؍جولائی (ایس او نیوز)محکمہ پولیس کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ضلع شمالی کینرا کے مختلف پولیس تھانوں میں امسال جنوری سے مئی تک عصمت دری سے متعلقہ 14معاملات درج کیے گئے ہیں۔ان 14معاملات میں بچوں اورنابالغوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کے لئے پوکسو ایکٹ کے تحت درج معاملات بھی شامل ہیں۔

گزشتہ تین برسوں کے درمیان پیش آنے والے عصمت دری کے واقعات کے سلسلے میں محکمہ پولیس نے جو اعداد وشمار پیش کیے ہیں اس کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ سب سے زیادہ معاملات سرسی میں داخل کیے گئے ہیں۔لیکن امسال کے پانچ مہینوں کی رپورٹ دیکھیں تو اس میں انکولہ سر فہرست ہے جہاں 4معاملات درج کیے گئے ہیں۔البتہ ضلع میں کاروار، ہوناور، منڈگوڈ، جوئیڈا اور ڈانڈیلی میں   عصمت دری کا امسال کوئی بھی معاملہ درج نہیں ہوا ہے۔

محکمہ پولیس کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں تعلقہ جاتی سطح پرپولیس کے پاس درج ہونے والے عصمت دری کے معاملات کچھ اس طرح ہیں:

تعلقہ 2016 2017 2018
کاروار 03 02 00
انکولہ 03 00 04
کمٹہ 04 03 01
ہوناور 02 03 00
بھٹکل 00 01 01
سرسی 06 11 03
سداپور 02 00 01
یلاپور 03 03 02
منڈگوڈ 03 01 00
ہلیال 01 01 02
جوئیڈا 01 01 00
ڈانڈیلی 01 01 00
جملہ 29 27 14

پولیس کا کہنا ہے کہ جنسی ہراسانی اور عصمت دری کے واقعات اکثر وبیشتر اس طرح پیش آتے ہیں کہ کوئی کام پورا کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو کہیں لے جاکر ان کی آبروریزی کی جاتی ہے۔یا پھر کچھ نوجوان شادی کا وعدہ کرکے لڑکیوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ جنسی تعلقات بنانے کے بعد انہیں دھوکہ دیتے ہیں اور شادی سے مکر جاتے ہیں۔پولیس افسران کا یہ بھی کہنا ہے کہ زیادہ ترجنسی ہراسانی معاملات میں خواتین او ر لڑکیوں کے رشتے دار ہی ملوث پائے جاتے ہیں۔غریب او ر بے سہارا خاندان والے یا پھر سماج میں اپنی بے عزتی کا خیال کرکے بہت سارے معاملات پولیس کے علم میں لائے ہی نہیں جاتے ۔شکایت درج نہ ہونے کی وجہ سے اس کے اعداد وشمار سامنے نہیں آتے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ ونائیک پاٹل کے بیان کے مطابق جنسی تعلقات کے کئی واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں پر دونوں اپنی مرضی سے یہ کام انجام دیتے ہیں اور بعد میں لڑکی یا خاتون کی طرف سے اسے عصمت دری کامعاملہ بناکر پولیس کے پاس شکایت درج کروائی جاتی ہے۔

عصمت دری کے ملزمین کو سزا دلانے کے بارے میں پولیس ایس پی نے بتایا کہ پوکسو قانون کے تحت درج معاملات میں تیزرفتاری سے تفتیش ہوتی ہے۔ گزشتہ سال دو معاملات میں ایک مجرم کو دس سال اور دوسرے کو9سال کی سزا ہوئی ہے۔


Share: